السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الدعاء في صلاة الجنازة باب: نماز جنازہ میں دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6979
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ سَيَّارٍ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَامَ عَلَيْهِ مَرْوَانُ فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا تَزَالُ تُحَدِّثُ بِأَحَادِيثَ لَا نَعْرِفُهَا، ثُمَّ انْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَى الْمَيِّتِ؟ قَالَ: مَعَ قَوْلِكِ آنِفًا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " كُنَّا نَقُولُ: اللهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا ".حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن سیار ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ مروان آ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے ابوہریرہ! آپ ہمیشہ ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جنہیں ہم جانتے نہیں، پھر وہ چلا گیا، پھر واپس آیا اور کہا: اے ابوہریرہ! میت کی نمازِ جنازہ کیسے ہے؟ انہوں نے کہا: تیری اسی بات کے ساتھ؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا: ہم کہا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا» ”اے اللہ! تو ہی اس کا رب ہے“۔