السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الدعاء في صلاة الجنازة باب: نماز جنازہ میں دعا کرنے کا بیان
وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلُوسَا الْأَسَدَابَاذِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَاسِيٍّ الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، أنبأ أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْبَابِ فَقُلْتُ: أِيُّ الرِّوَايَاتِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَصَحُّ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ؟ فَقَالَ: أَصَحُّ شَيْءٍ فِيهِ حَدِيثُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَشْهَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ، وَلِوَالِدِهِ صُحْبَةٌ وَلَمْ يُعْرَفِ اسْمُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: قُلْتُ لَهُ: فَالَّذِي يُقَالُ هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ هُوَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُوَ سَلْمِيٌّ وَهَذَا أَشْهَلِيٌّ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَبِي قَتَادَةَ فِي هَذَا الْبَابِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَأَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے اور پوری حدیث بیان کی۔
ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس باب کے بارے میں پوچھا کہ نمازِ جنازہ کے بارے میں یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی روایات میں سے کون سی زیادہ صحیح ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: اس میں سب سے زیادہ صحیح ابو ابراہیم اشہلی کی اپنے والد سے روایت ہے، ان کے والد کو صحبت حاصل ہے اور ابو ابراہیم کا نام معلوم نہیں۔ میں نے ان سے کہا: کہا جاتا ہے کہ وہ عبداللہ بن ابی قتادہ ہیں؟ تو انہوں نے اس کا انکار کیا کہ وہ عبداللہ بن ابی قتادہ ہوں اور فرمایا: ابو قتادہ سلمی ہیں اور یہ اشہلی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: اس باب میں ابو سلمہ کی سیدنا ابوہریرہ، سیدہ عائشہ اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہم سے روایت محفوظ نہیں ہے اور اس باب میں سب سے زیادہ صحیح سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔