السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: كيف الأخذ من الشارب باب: مونچھیں تراشنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 696
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَجُوسَ، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ يُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ، وَيَحْلِقُونَ لِحَاهُمْ فَخَالِفُوهُمْ " قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ " يَسْتَعْرِضُ سَبْلَتُهُ فَجَزَّهَا كَمَا تُجَزُّ الشَّاةُ أَوْ يُجَزُّ الْبَعِيرُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجوسیوں کا ذکر کیا اور فرمایا: ”وہ اپنی مونچھیں بڑھاتے ہیں اور داڑھیاں مونڈتے ہیں، تم ان کی مخالفت کرو“۔ راوی کہتا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی مونچھوں کو چوڑائی کے بل پکڑتے اور انہیں اس طرح کاٹ دیتے جس طرح بکری یا اونٹ کے بال کاٹے جاتے ہیں۔