السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: عدد التكبير في صلاة الجنازة باب: نماز جنازہ میں تکبیروں کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 6934
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ شُعْبَةُ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى قَبْرًا مَنْبُوذًا فَصَفَّهُمْ وَتَقَدَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا قَالَ سُلَيْمَانُ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ بِهَذَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ.حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس نے خبر دی جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپ ﷺ ایک گہری قبر کے پاس آئے اور ان کی صفیں بنائیں اور خود آگے کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیرات پڑھیں۔ سلمان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عمرو! تجھے یہ حدیث کس نے سنائی ہے؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔