السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: السنة في الأخذ من الأظفار والشارب وما ذكر معهما وأن لا وضوء في شيء من ذلك باب: ناخن، مونچھیں اور ان کے ساتھ مذکورہ چیزیں کاٹنے کی سنت، اور یہ کہ ان میں سے کسی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ قَصَّ أَظْفَارَهُ، فَقُلْتُ: أَلَا تَتَوَضَّأُ؟، فَقَالَ: " مِمَّ أَتَوَضَّأُ لَأَنْتَ أَكْيَسُ فِي نَفْسِكَ مِمَّنْ سَمَّاهُ أَهْلُهُ كَيِّسًا " وَرُوِّينَاهُ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ يَقُصُّ أَظْفَارَهُ بَعْدَ الْوُضُوءِ: هُوَ طُهُورُهُ، وَعَنِ الْحَسَنِ، لَيْسَ فِيهِ وُضُوءٌ، وَعَنْ عَطَاءٍ أَمْسِسْهُ الْمَاءَ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، كَذَلِكَ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، إِنْ شَاءَ مَسَحَ عَلَيْهِ بِمَاءٍ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ.(الف) ابومجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے ناخن کاٹے، میں نے کہا: ”آپ وضو کیوں نہیں کرتے؟“ انہوں نے کہا: ”کس سے وضو کروں؟ تم خود کو زیادہ عقلمند سمجھتے ہو اس لیے کہ تمہارے خاندان نے تمہارا نام عقلمند رکھا ہے؟“
(ب) شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے: وہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے ناخنوں کو وضو کے بعد کاٹتا ہے کہ یہ پاکیزگی (کا باعث) ہے۔
(ج) حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس میں وضو نہیں ہے“ اور عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس کو پانی لگائے یعنی وضو کرے۔“ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اگر چاہے تو پانی سے اس پر مسح کر لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔“