حدیث نمبر: 6911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَتْ حَدِيثًا "، ثُمَّ قَالَتْ: قَالَ: فِي أِيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ " يَوْمَ الِاثْنَيْنِ " قَالَ: أَرْجُو فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ اللَّيْلِ قَالَتْ: " فَلَمْ يُتَوَفَّ حَتَّى أَمْسَى لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ، فَدُفِنَ قَبْلَ أَنْ يُصْبِحَ " قَالَتْ: وَقَدْ قَالَ: فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: " فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ "، فَنَظَرَ إِلَى ثَوْبٍ كَانَ يُمَرَّضُ فِيهِ، فِيهِ رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ أَوْ مِشْقٍ، فَقَالَ: اغْسِلُوا ثَوْبِي هَذَا وَزِيدُوا فِيهِ ثَوْبَيْنِ وَكَفِّنُونِي فِيهَا، قُلْتُ " إِنَّ هَذَا خَلَقٌ " قَالَ: " إِنَّ الْحِيَّ أَحَقُّ بِالْجَدِيدِ مِنَ الْمَيِّتِ، إِنَّمَا هُوَ لِلْمُهْلَةِ " لَفْظُ حَدِيثِ الْعَبَّاسِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ، وَرُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ دُفِنَ لَيْلًا، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ دُفِنَتْ لَيْلًا، وَرُوِّينَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ دُفِنَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَرُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّوُا الصُّبْحَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئی اور حدیث بیان کی۔ پھر وہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کس دن فوت ہوئے تھے؟ میں نے کہا: پیر کے دن، تو انہوں نے کہا: مجھے امید ہے کہ میرے اور موت کے درمیان رات ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منگل کی شام فوت ہوئے اور صبح ہونے سے پہلے دفن کر دیے گئے، انہوں نے پوچھا: کتنے کپڑوں میں آپ ﷺ کو کفن دیا گیا؟ میں نے کہا: تین یمنی چادروں میں، جس میں قمیص نہیں تھی اور نہ ہی پگڑی تھی، تو انہوں نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا جس میں وہ بیمار ہوئے تھے، جس میں زعفران کستوری کی آمیزش تھی تو انہوں نے کہا: میرے ان کپڑوں کو دھو ڈالو اور اس میں دو کپڑوں کا اضافہ کر کے مجھے کفن دینا۔ میں نے کہا: یہ پرانے ہیں، تو انہوں نے کہا: زندہ لوگ نئے کپڑوں کے مردہ سے زیادہ حق دار ہیں، بے شک یہ مہلت کے لیے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو رات کے وقت دفن کیا گیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا گیا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ ﷺ کو رات میں دفن کیا گیا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا کہ عشاء کے آخری وقت میں دفن کیا گیا۔ کتاب الصلوٰۃ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جنازہ صبح کی نماز کے بعد پڑھایا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6911
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»