حدیث نمبر: 6909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ إِنْسَانٌ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَدَفَنُوهُ بِاللَّيْلِ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوهُ بِمَوْتِهِ، فَقَالَ: " مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي "، فَقَالُوا كَانَ اللَّيْلُ وَكَانَتِ الظُّلْمَةُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ، فَأَتَى قَبْرَهَ فَصَلَّى عَلَيْهِ " لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص فوت ہو گیا جس کی تیمار داری رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے، اسے رات میں ہی دفن کر دیا گیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ کو اس کی موت سے آگاہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کس نے منع کیا کہ مجھے اطلاع دیتے؟“ تو انہوں نے کہا کہ اندھیری رات تھی، اس لیے ہم نے آپ کو مشقت میں ڈالنا پسند نہ کیا، پھر آپ ﷺ اس کی قبر پر آئے اور نمازِ جنازہ ادا کی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں محمد سے اور انہوں نے ابو معاویہ سے بیان کیا اور امام مسلم رحمہ اللہ نے دوسری سند سے شیبانی سے مختصراً بیان کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6909
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»