السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
جماع أبواب من أولى بالصلاة على الميت -- باب: الولي يبر قريبه بعد موته بالصلاة عليه والاستغفار له باب: میت پر نماز جنازہ پڑھانے کے زیادہ حق دار لوگوں کے ابواب کا مجموعہ -- باب: ولی کا اپنے رشتہ دار کی موت کے بعد اس پر نماز جنازہ پڑھ کر اور اس کے لیے دعائے مغفرت کر کے اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّاهِبِ ابْنِ الْغَسِيلِ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَوِيَّ قَدْ هَلَكَا، فَهَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّهِمَا شَيْءٌ أَصِلُهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا، قَالَ: " نَعَمْ أَرْبَعَةُ أَشْيَاءَ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا وَصِلَةُ رَحِمِهِمَا الَّتِي لَا رَحِمَ لَكَ إِلَّا مِنْ قِبَلِهِمَا "، فَقَالَ مَا أَكْثَرَ هَذَا وَأَطْيَبَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَاعْمَلْ بِهِ فَإِنَّهُ يَصِلُ إِلَيْهِمَا ".سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنو ساعدہ میں سے ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے والدین فوت ہو چکے ہیں، کیا ان کے ساتھ نیکی میں سے کچھ باقی ہے جو میں ان کے ساتھ ان کی موت کے بعد کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! چار چیزیں: ان کا جنازہ پڑھانا اور استغفار کرنا اور ان کی موت کے بعد ان کے عہد کو نافذ کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، جو صرف ان کی طرف سے رشتہ داری رکھتے ہیں۔“ تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ کتنا زیادہ اور کتنا عمدہ ہے!“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اعمال کرتا رہ وہ ان تک پہنچ جائیں گے۔“