حدیث نمبر: 6892
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، تَحَدَّثَ أَنَّ الْقَاسِمَ: كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ الْجِنَازَةِ وَيَجْلِسُ قَبْلَ أَنْ تُوضَعَ، وَلَا يَقُومُ لَهَا وَكَانَ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُومُونَ لَهَا إِذَا رَأَوْهَا وَيَقُولُونَ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبد الرحمن بن ابی القاسم فرماتے ہیں کہ ابو القاسم جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور اس کے رکھنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے اور اس کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے اور وہ نبی کریم ﷺ کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ دورِ جاہلیت میں لوگ اس کے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے جب اسے دیکھتے اور کہتے: ”تو اپنے اہل میں نہیں رہا، تو اپنے اہل میں نہیں رہا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6892
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»