السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: السنة في الأخذ من الأظفار والشارب وما ذكر معهما وأن لا وضوء في شيء من ذلك باب: ناخن، مونچھیں اور ان کے ساتھ مذکورہ چیزیں کاٹنے کی سنت، اور یہ کہ ان میں سے کسی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ} [البقرة: ١٢٤] قَالَ: " ابْتَلَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالطَّهَارَةِ خَمْسٌ فِي الرَّأْسِ، وَخَمْسٌ فِي الْجَسَدِ، فِي الرَّأْسِ: قَصُّ الشَّارِبِ، ⦗٢٣٢⦘ وَالْمَضْمَضَةُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَالسِّوَاكُ، وَفَرْقُ الرَّأْسِ، وَفِي الْجَسَدِ: تَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَالْخِتَانُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَغَسْلُ مَكَانِ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ بِالْمَاءِ " وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْكِتَابِ حَدِيثُ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ " فَذَكَّرَهُنَّ إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ إِعْفَاءَ اللِّحْيَةِ، وَغَسْلَ الْبَرَاجِمِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْخِتَانَ، وَفَرْقَ الرَّأْسِ.(الف) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کے ارشاد ﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ﴾ [سورة البقرة: 124] کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے طہارت کے ساتھ آزمایا ہے: پانچ کا تعلق سر سے ہے اور پانچ کا جسم سے ہے۔ سر والی یہ ہیں: مونچھیں کاٹنا، کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، مسواک کرنا، مانگ نکالنا اور جسم والی یہ ہیں: ناخن کاٹنا، زیر ناف بال مونڈنا، ختنہ کرنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، قضائے حاجت اور پیشاب کی جگہ کو پانی سے دھونا۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس چیزیں فطرت میں سے ہیں“، پھر ان کا ذکر کیا اور داڑھی بڑھانے اور پوروں کو دھونے کا ذکر بھی کیا، مگر ختنہ کرنے اور مانگ نکالنے کا ذکر نہیں کیا۔