السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: حمل الميت على الأيدي والرقاب إن لم يوجد سرير أو لوح باب: اگر چارپائی یا تختہ میسر نہ ہو تو میت کو ہاتھوں اور کندھوں پر اٹھانے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَغْزًى لَهُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْقِتَالِ، قَالَ: " هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ " قَالُوا: نَفْقِدُ وَاللهِ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ " قَالُوا: نَفْقِدُ فُلَانًا وَفُلَانًا، قَالَ: " لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَاطْلُبُوهُ "، فَوَجَدُوهُ عِنْدَ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَأُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ فَانْتَهَى إِلَيْهِ، فَقَالَ: " قَتَلَ ⦗٣٢⦘ سَبْعَةً، ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، قَتَلَ سَبْعَةً وَقَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: بِذِرَاعَيْهِ هَكَذَا فَبَسَطَهُمَا فَوُضِعَ عَلَى ذِرَاعَيِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حُفِرَ لَهُ فَمَا كَانَ لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا ذِرَاعَيِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دُفِنَ، قَالَ: وَمَا ذَكَرَ غُسْلًا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک غزوے میں تھے، جب آپ ﷺ لڑائی سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا کسی کو گم پاتے ہو؟“ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم فلاں فلاں کو گم پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن میں جلیبیب کو نہیں پاتا۔“ تو صحابہ نے انہیں سات آدمیوں کے پاس پایا جنہیں اس نے قتل کیا تھا، پھر انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا اور آپ ﷺ کو خبر دی گئی تو آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور فرمایا: ”اس نے سات کو قتل کیا، پھر انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اس نے سات کو قتل کیا اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔“ آپ ﷺ نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی۔ پھر انہوں نے اپنے بازوؤں سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ آپ ﷺ کے بازوؤں کے علاوہ کوئی چارپائی نہیں تھی، یہاں تک کہ اسے دفن کر دیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: ان کے غسل کا تذکرہ نہیں کیا۔