السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المرتث والذي يقتل ظلما في غير معترك الكفار والذي يرجع إليه سيفه باب: اس شخص کا بیان جو میدانِ جنگ سے زخمی حالت میں لایا جائے، یا جو کفار کے میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور ظلماً قتل کر دیا جائے، اور اس شخص کا بیان جس کی تلوار خود اسی کو لگ جائے
حدیث نمبر: 6822
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَ قَتْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: وَجَاءَ كِتَابُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنْ يُدْفَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَسْمَاءَ: فَغَسَّلَتْهُ وَكَفَّنَتْهُ وَحَنَّطَتْهُ، ثُمَّ دَفَنَتْهُ قَالَ أَيُّوبُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: فَمَا عَاشَتْ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ مَاتَتْ زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ وَصَلَّتْ عَلَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل ہونے کے بعد گیا۔ وہ کہتے ہیں: عبدالملک کا خط آیا، اس نے کہا: اس کی میت ان کے اہل کے حوالے کر دو۔ میں اسے لے کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، پھر دفن کر دیا گیا۔ ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ اس کے بعد وہ صرف تین دن زندہ رہیں۔