السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المرتث والذي يقتل ظلما في غير معترك الكفار والذي يرجع إليه سيفه باب: اس شخص کا بیان جو میدانِ جنگ سے زخمی حالت میں لایا جائے، یا جو کفار کے میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور ظلماً قتل کر دیا جائے، اور اس شخص کا بیان جس کی تلوار خود اسی کو لگ جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنُ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: " كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " فَصَنَعَ لَهُ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَوَجَأَهُ عَلَى كَتِفِهِ، وَوَجَأَهُ عَلَى مَكَانٍ آخَرَ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ، فَسَقَطَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " وَقَدْ مَضَى فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ فِي قِصَّةِ قَتْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ طَعَنَهُ، قَالَ: فَطَارَ الْعِلْجُ بِالسِّكِّينِ ذَاتِ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ. وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ قُتِلَ بِمِحْدَدٍ ثُمَّ غُسِّلَ وَكُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ.ثابت ابو رافع سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابو لؤلؤ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور آگے پوری حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں: اس نے ان کے لیے دو سروں والا خنجر تیار کیا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو اس نے ان کے کندھے پر وار کیا، پھر دوسری جگہ وار کیا اور خنجر ان کے پہلو میں اتار دیا تو عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے۔
ثابت کی حدیث میں قتل عمر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ گزر چکا ہے کہ مجوسی نے ان پر خنجر سے وار کیا اور پھر وہ جس کے پاس سے بھی گزرتا تو وہ دائیں بائیں والوں کو خنجر مارتا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پھر غسل دیا گیا، کفن دیا گیا اور جنازہ پڑھا گیا۔