❮
❯
حدیث نمبر: 6815
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أَنَّ ⦗٢٣⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ صَاحِبَكُمْ تَغُسِّلُهُ الْمَلَائِكَةُ "، يَعْنِي حَنْظَلَةَ، " فَاسْأَلُوا أَهْلَهَ مَا شَأْنُهُ "، فَسُئِلَتْ صَاحِبَتُهُ فَقَالَتْ: خَرَجَ وَهُوَ جُنُبٌ حِينَ سَمِعَ الْهَائِعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " لِذَلِكَ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ ".
حافظ ثناء اللہ

عاصم بن عمر بن قتادہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارے ساتھی کو فرشتوں نے غسل دیا ہے“ یعنی حنظلہ رضی اللہ عنہ کو، ”اس کے گھر والوں سے پوچھو کہ اس کی کیا وجہ ہے؟“ تو ان کی بیوی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: جب انہوں نے جنگ کی پکار سنی تو وہ اس حال میں نکلے کہ جنبی تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسی وجہ سے فرشتوں نے اسے غسل دیا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6815
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو نعيم»