السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ذكر رواية من روى أنه صلى عليهم بعد ثمان سنين توديعا لهم باب: ان حضرات کی روایت کا ذکر جنہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ نے آٹھ سال بعد انہیں رخصت کرنے کے لیے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی
حدیث نمبر: 6810
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِ سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: " إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَمَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا " قَالَ: فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ بِمَعْنَى رِوَايَةِ اللَّيْثِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ عُقْبَةُ: " فَكَانَ آخِرُ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے آٹھ سال بعد مقتولینِ احد کی نماز جنازہ پڑھائی، جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو الوداع کرنے والا ہو۔ پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”بیشک میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور تمہارا وعدہ حوض پر ہے اور میں اسے اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں اور میں تم پر اس سے نہیں ڈرتا کہ تم شرک کرو گے، لیکن میں تو تم پر ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں پھنس جاؤ گے۔“ اور یہ آخری نظر تھی جو میں نے آپ ﷺ پر ڈالی۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آخری مرتبہ میں نے آپ ﷺ کو منبر پر دیکھا۔