حدیث نمبر: 6801
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْأَبْيَوَرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى الشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: " زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ فَإِنِّي عَلَيْهِمْ شَهِيدٌ " وَكَانَ يُدْفَنُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ، وَيَسْأَلُ أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ فَيُقَدِّمُونَهُ. قَالَ جَابِرٌ فَدُفِنَ أَبِي وَعَمِّي يَوْمَئِذٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب غزوہ احد ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے مقتولین (شہدائے) احد کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”انہیں ان کے خون سمیت لپیٹ دو، بیشک میں ان کا گواہ ہوں۔“ اور ایک ہی قبر میں ایک، دو، تین تین آدمیوں کو دفن کیا گیا اور آپ ﷺ پوچھتے کہ ”ان میں سے زیادہ قرآن پڑھنے والا کون ہے؟“ پھر اسے مقدم کیا جاتا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس دن میرے باپ اور چچا کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6801
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه احمد»