السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستدل به على أن كفن الميت ومؤونته من رأس المال بالمعروف باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ میت کا کفن اور اس کی دیگر ضروریات دستور کے مطابق اس کے اصل مال سے پوری کی جائیں گی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا كَانَ مِنْهُمْ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " غَطُّوا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ " وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی اور ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے تھے تو ہمارا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہو گیا۔ سو ہم میں سے وہ بھی ہیں جو ہم سے پہلے فوت ہو گئے اور اس اجر میں سے کچھ نہ کھایا، ان میں سے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے جو غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ انہوں نے کوئی ترکہ نہ چھوڑا سوائے ایک ٹاٹ (کمبل) کے۔ جب ہم اس سے ان کے سر کو ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا سر ڈھانپ دو اور اس کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔“ اور ہم میں سے وہ بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور وہ اسے توڑ رہا ہے۔