حدیث نمبر: 6772
وَقَالَ: ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: مَا ⦗١٠⦘ قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَازَرُ بِهِ، قَالَ: " لَا أَظُنُّ، كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَقُولُ تُلَفُّ بِثَوْبٍ تَحْتَ الدِّرْعِ وَلَا أَرَاهُ إِلَّا ذَلِكَ " أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمَنِيعِيُّ، ثنا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ایوب رحمہ اللہ سے پوچھا: «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» کا کیا مطلب ہے، کیا اسے تہبند کے طور پر باندھا جائے؟ انہوں نے کہا: میرا یہ خیال نہیں، ابن سیرین رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”اسے درع (قمیص) کے نیچے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے“ اور میں اس کا یہی مطلب سمجھتا ہوں۔