حدیث نمبر: 6771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ عَطِيَّةَ مِنَ اللَّوَاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَتِ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، فَحَدَّثَتْنَا وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ: " أَشْعِرْنَهَا اتَّزِرْنَ بِهِ؟ قَالَ: لَا أَرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ: الْفِفْنَهَا فِيهِ، قَالَ أَيُّوبُ: وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ لِفَافَةً.حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: جن صحابیات رضی اللہ عنہن نے آپ ﷺ کی بیعت کی، ان میں سے ایک ام عطیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، یہ بصرہ سے آئی تھیں اپنے بیٹے کو ڈھونڈتی ہوئی مگر اسے نہ پا سکیں، وہ کہتے ہیں: میں نے اس قول «أَشْعِرْنَهَا» ”اسے (بطورِ شعار) پہنا دو“ کے بارے میں پوچھا: اس سے مراد یہ ہے کہ اسے کمر سے باندھ دیا جائے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ ہم اسے اس میں لپیٹ دیں
ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی عورت کے بارے میں حکم دیا کرتے تھے کہ اسے غلاف کی مانند لپیٹ دیا جائے۔