السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من اتساع القبر وإعماقه باب: قبر کو کشادہ اور گہرا کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6755
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ وَأَنَا ⦗٥٨١⦘ غُلَامٌ مَعَ أَبِي، فَجَلَسَ عَلَى حُفْرَةِ الْقَبْرِ، وَجَعَلَ يَوْمِئُ إِلَى الْحَفَّارِ وَيَقُولُ: " أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرَّأْسِ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرِّجْلَيْنِ، وَرُبَّ عِذْقٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ: " فَرَأَيْتُهُ عَلَى حَفِيرَةِ الْقَبْرِ جَالِسًا " فَقَالَ: " أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَرُبَّ عِذْقٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ ".حافظ ثناء اللہ
عاصم بن کلیب اپنے باپ سے اور وہ انصار کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے اور میں بچہ تھا جو اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ آپ ﷺ قبر کے گڑھے پر بیٹھ گئے اور گڑھا کھودنے والوں سے کہہ رہے تھے: ”سر کی طرف سے کشادہ کرو۔ پاؤں کی طرف سے کشادہ کرو، اس کے لیے جنت میں بہت سے خوشے ہوں گے۔“
ابو عبداللہ کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے آپ کو قبر کے گڑھے پر بیٹھے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے سر کی جانب سے فراخ کرو، اس کے لیے جنت میں بہت سے خوشے ہوں گے۔“