السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: إهالة التراب في القبر بالمساحي وبالأيدي باب: پھاوڑوں اور ہاتھوں کے ذریعے قبر میں مٹی ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 6731
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: " تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَلَمْ تَصُبْ لَهُ حَسَنَةٌ إِلَّا ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ حَثَاهَا فِي قَبْرٍ فَغُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ ". وَهَذَا مَوْقُوفٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک ایسا آدمی فوت ہوا جس نے کوئی نیکی نہیں کی تھی سوائے مٹی کے تین چلوؤں کے جو اس نے قبر پر ڈالے تھے، سو اس کے سارے (تمام) گناہ معاف کر دیے گئے۔“