السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما جاء في استقبال القبلة بالموتى باب: مردوں کو قبلہ رخ کرنے کے بارے میں جو مروی ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُّوذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ طَيْسَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ فِي أَصْلِ الْأَرَاكِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُوَ يَنْضَحُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَوَجْهِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، حَدِّثْنِي عَنِ الْكَبَائِرِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ " فَقُلْتُ: أَقَتْلُ الدَّمِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَرَغْمًا، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَإِلْحَادٌّ بِالْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا ".طیسلہ بن علی کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ کے دن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا جبکہ وہ پیلو کے درخت کی جڑ کے پاس اپنے سر اور چہرے پر پانی چھڑک رہے تھے، میں نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، مجھے کبیرہ گناہوں کے بارے میں حدیث بیان کریں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کبائر اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور پاکدامنہ پر تہمت لگانا ہے۔“ میں نے کہا: کیا کسی کو قتل کرنا (بھی کبیرہ گناہ ہے)؟ تو انہوں نے کہا: ”ہاں، تیرے نہ چاہنے پر بھی، اور مومن نفس کو قتل کرنا، میدانِ جنگ سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا اور بیت الحرام کی حرمت کو پامال کرنا، حالانکہ وہ تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے۔“