حدیث نمبر: 6724
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُّوذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ طَيْسَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ فِي أَصْلِ الْأَرَاكِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُوَ يَنْضَحُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَوَجْهِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، حَدِّثْنِي عَنِ الْكَبَائِرِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ " فَقُلْتُ: أَقَتْلُ الدَّمِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَرَغْمًا، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَإِلْحَادٌّ بِالْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا ".
حافظ ثناء اللہ

طبیلہ بن علی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: مجھے کبیرہ گناہوں کے بارے میں حدیث بیان کریں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کبائر اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور پاکدامنہ پر تہمت لگانا ہے۔“ میں نے کہا: کیا کسی کو قتل کرنا (بھی کبیرہ گناہ ہے)؟ تو انہوں نے کہا: ”ہاں، تیرے نہ چاہنے پر بھی، اور مومن نفس کو قتل کرنا، میدانِ جنگ سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا اور بیت الحرام میں لڑائی کرنا، حالانکہ وہ تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے۔“
حسن، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کعبہ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اللہ کی قسم! یہ تو صرف پتھر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے زندوں کے قبلے کے طور پر نصب کیا ہے اور ہم اپنے مردوں کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6724
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابن جرير»