السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من استحب فيه الحبرة وما صبغ غزله ثم نسج باب: جس نے کفن میں یمنی دھاری دار چادر اور اس کپڑے کو مستحب قرار دیا جس کا سوت رنگا گیا ہو اور پھر بُنا گیا ہو
حدیث نمبر: 6693
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ، وَخَيْرُ الْأُضْحِيَّةِ الْكَبْشُ الْأَقْرَنُ ". قَالَ الشَّيْخُ: وَالْحُلَّةُ هِيَ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ غَالِبًا، ⦗٥٦٦⦘ وَالْأَحَادِيثُ فِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثِيَابٍ بِيضٍ، وَأَنَّهُ اسْتَحَبَّ الْبَيَاضَ أَصَحُّ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین کفن حلہ ہے اور بہترین قربانی سینگوں والے مینڈھے کی ہے۔“ حلہ سرخ رنگ کے دو کپڑے ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کو سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا اور یہ کپڑے آپ ﷺ کا محبوب لباس تھے۔