السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يغسل به الميت وسنة التكرار في غسله باب: جن چیزوں سے میت کو غسل دیا جائے اور اس کے غسل میں تکرار کے سنت ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْغُسْلَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: يَغْسِلُ بِالسِّدْرِ مَرَّتَيْنِ، وَالثَّالِثَةَ بِالْمَاءِ وَالْكَافُورِ ".محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے غسل کا طریقہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے لیا، وہ غسل دیتیں بیری کے ساتھ دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ پانی اور کافور کے ساتھ، اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بیان کیا گیا کہ ان کے باپ نے وصیت کی کہ اے میرے بیٹے! جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے ایک مرتبہ پانی سے غسل دینا، عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ کو ایک مرتبہ غسل دینا کافی ہے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی چیز مقرر نہیں اور ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بیری وغیرہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور اصحابِ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میت کو ایک ایک مرتبہ غسل دیا جائے اور ایک ہی کفن اور ایک ہی مرتبہ استنجاء کروانا ہے۔