حدیث نمبر: 6619
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ، ثنا ابْنُ يُونُسَ، ثنا لَيْثٌ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَجَدَ النَّاسُ وَهُمْ صَادِرُونَ يَعْنِي مِنَ الْحَجِّ امْرَأَةً مَيْتَةً بِالْبَيْدَاءِ، يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَلَا يَرْفَعُونَ لَهَا رَأْسًا، حَتَّى مَرَّ بِهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ كُلَيْبٌ مِسْكِينٌ فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبَهُ ثُمَّ اسْتَعَانَ عَلَيْهَا مَنْ يَدْفِنُهَا، فَدَعَا عُمَرُ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَرَرْتَ بِهَذِهِ الْمَرْأَةِ الْمَيْتَةِ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ حَدَّثْتَنِي أَنَّكُ مَرَرْتَ بِهَا لَ‍نَكَّلْتُ بِكَ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ فِيهَا، وَقَالَ: لَعَلَّ اللهَ يُدْخِلُ كُلَيْبًا الْجَنَّةَ بِفِعْلِهِ بِهَا، فَبَيْنَمَا كُلَيْبٌ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ الْمَسْجِدِ جَاءَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ قَاتِلُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَقَرَ بَطْنَهُ، قَالَ نَافِعٌ: وَقَتَلَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ مَعَ عُمَرَ سَبْعَةَ نَفَرٍ ". وَرَوَاهُ أَيْضًا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ حج سے آ رہے تھے تو انہوں نے بیداء مقام پر ایک مردہ عورت کو پایا۔ وہ گزرتے گئے اور کسی نے اس کی طرف سر اٹھا کر نہ دیکھا حتیٰ کہ ہوالیت میں سے ایک آدمی گزرا جسے کلیب مسکین کہا جاتا تھا۔ اس نے اس پر کپڑا ڈال دیا۔ پھر انہوں نے مدد کے لیے پکارا جو اسے دفن کریں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کو بلایا (یعنی اپنے بیٹے کو) تو انہوں نے کہا: ”کیا تو اس مردہ عورت کے پاس سے گزرا ہے؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ”نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر مجھے علم ہو گیا کہ تو وہاں سے گزرا ہے تو میں تجھے ضرور سزا دوں گا۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ان پر بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے: ”شاید کہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کی وجہ سے کلیب کو جنت میں داخل کر دے۔“ ایک مرتبہ کلیب مسجد کے پاس وضو کر رہے تھے کہ ان کے پاس ابولؤلؤ آیا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا تو اس نے اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ نافع کہتے ہیں: ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سترہ افراد کو قتل کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6619
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن حبان»