السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: وجوب العمل في الجنائز من الغسل والتكفين والصلاة والدفن حتى يقوم بذلك من فيه الكفاية باب: جنازوں کے معاملات مثلاً غسل، کفن، نماز اور دفن میں عمل کرنے کے وجوب کا بیان یہاں تک کہ اتنے لوگ یہ کام انجام دے لیں جو کافی ہوں (فرضِ کفایہ کا بیان)
حدیث نمبر: 6617
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ مَرَّ بِجِيفَةِ إِنْسَانٍ إِلَّا أَمَرَ بِدَفْنِهِ، لَا يَسْأَلُ أَمُسْلِمٌ هُوَ أَمْ كَافِرٌ؟ "..حافظ ثناء اللہ
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہما اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ کسی انسان کی میت کے پاس سے گزرے ہوں اور آپ ﷺ نے دفن کا حکم نہ دیا ہو۔ آپ ﷺ یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ یہ مسلم ہے یا کافر۔