❮
❯
حدیث نمبر: 6617
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، فَمَا رَأَيْتُهُ مَرَّ بِجِيفَةِ إِنْسَانٍ إِلَّا أَمَرَ بِدَفْنِهِ، لَا يَسْأَلُ أَمُسْلِمٌ هُوَ أَمْ كَافِرٌ؟ "..
حافظ ثناء اللہ

عمر بن یعلیٰ بن مرہ اپنے والد سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کئی مرتبہ سفر کیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ کسی انسان کی میت کے پاس سے گزرے ہوں اور آپ ﷺ نے دفن کا حکم نہ دیا ہو۔ آپ ﷺ یہ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ یہ مسلم ہے یا کافر۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6617
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً۔ أخرجه الحاكم»