السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: في مس الأنجاس اليابسة باب: خشک نجاستوں کو چھونے کے احکام کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، أنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ ⦗٢١٩⦘ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَيْهِ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيْتٍ فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ يَعْنِي بِأُذُنِهِ ثُمَّ قَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟ " فَقَالُوا: مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِهِ قَالَ: " أَتُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ؟ " قَالُوا: وَاللهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ عَيْبًا فِيهِ لِأَنَّهُ أَسَكُّ فَكَيْفَ وَهُوَ مَيْتٌ فَقَالَ: " فَوَاللهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بازار میں بلند جگہ سے داخل ہوئے اور لوگ دونوں طرف تھے۔ آپ ﷺ بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس سے گزرے تو اس کو کان سے پکڑا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اس کو ایک درہم میں لے لے؟“ انہوں نے کہا: ہم پسند نہیں کرتے کہ ہم اس میں سے کوئی چیز لیں اور ہم اس کا کیا کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمہارے لیے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں عیب تھا اس لیے کہ وہ بچہ ہے تو اب اس کو کس طرح لیں جب کہ وہ مردہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل تر ہے۔“