السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المريض لا يسب الحمى، ولا يتمنى الموت لضر نزل به، وليصبر، وليحتسب باب: بیمار بخار کو برا بھلا نہ کہے، اور نہ ہی کسی پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْأَهْوَازِ، ثنا جَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى بِسَبْعِ كَيَّاتٍ، فَقَالَ: إِنَّ أَصْحَابَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مَضَوْا وَلَمْ يَنْقُصْهُمْ أَمْوَالٌ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَالًا لَمْ نَجِدْ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى نَعُودُهُ وَهُو يَبْنِي حَائِطًا لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ إِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي التُّرَابِ، وَلَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے اور انہوں نے جسم کو لوہے کے ساتھ داغ رکھا تھا۔ انہوں نے کہا: بے شک نبی کریم ﷺ کے صحابہ (رضی اللہ عنہم) اسلام لائے اور چلے گئے، مگر مال نے ان کے اعمال میں کوئی کمی نہ کی اور ہم نے مال پایا مگر تصرف کے لیے مٹی کے بغیر کوئی جگہ نہ ملی۔ پھر ہم ان کے پاس دوسری مرتبہ ان کی تیمار داری کے لیے آئے اور وہ دیوار بنا رہے تھے تو انہوں نے کہا: بے شک مسلمان ہر اس چیز میں اجر دیا جاتا ہے جو وہ خرچ کرتا ہے، مگر اس میں نہیں جسے وہ مٹی میں ملاتا ہے اور اگر رسول اللہ ﷺ نے موت کی دعا کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔