السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الوباء يقع بأرض فلا يخرج فرارا منه وليمكث بها صابرا محتسبا وإذا وقع بأرض ليس هو بها فلا يقدم عليه باب: جب کسی علاقے میں وبا پھیل جائے تو وہاں سے فرار ہو کر نہ نکلے بلکہ ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے، اور اگر کسی ایسی جگہ وبا پھیل جائے جہاں وہ موجود نہیں تو وہاں نہ جائے
حدیث نمبر: 6560
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ، فَقَالَتْ: حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ عَبْدٌ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيُقِيمُ بِبَلَدِهِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَنْ يُصِيبَهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ ". ⦗٥٢٨⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ.حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”بیشک یہ عذاب ہے، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے نازل کرتا ہے، مگر اہل ایمان کے لیے اسے رحمت بناتا ہے۔ کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو اسی زمین میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون واقع ہوا ہو، وہ صرف ایمان اور طلبِ ثواب کی نیت سے رکا رہے اور وہ جانتا ہو کہ اسے ہرگز نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، تو اس کے لیے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔“