السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الوباء يقع بأرض فلا يخرج فرارا منه وليمكث بها صابرا محتسبا وإذا وقع بأرض ليس هو بها فلا يقدم عليه باب: جب کسی علاقے میں وبا پھیل جائے تو وہاں سے فرار ہو کر نہ نکلے بلکہ ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے، اور اگر کسی ایسی جگہ وبا پھیل جائے جہاں وہ موجود نہیں تو وہاں نہ جائے
حدیث نمبر: 6558
وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، فَقَالَ فِي مَتْنِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا الطَّاعُونُ بَقِيَّةُ رِجْزٍ وَعَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا عَنْهُ ". أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
وہب بن جریر نے اسے شعبہ سے روایت کیا اور اس کے متن میں نبی کریم ﷺ سے یوں بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طاعون اس عذاب کا بقیہ ہے جس کے ذریعے ایک قوم کو عذاب دیا گیا، جب کسی علاقے میں (یہ) ہو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسے علاقے میں پھیلے جہاں تم پہلے موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو۔“