السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو غَسَّانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَعُودُهُ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ نَحِيفَةٌ قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ بَاتَ؟ قَالَ: بَاتَ بِأَجْرٍ، قَالَ أَبُو ⦗٥٢٤⦘ عُبَيْدَةَ: مَا بِتُّ بِأَجْرٍ، قَالَ: فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَنِ الْكَلِمَةِ؟ قَالُوا: مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلَكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَبِسَبْعِ مِائَةٍ، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ، أَوْ مَازَ أَذًى عَنْ طَرِيقٍ فَالْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا، وَمَنِ ابْتَلَاهُ اللهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ فَلَهُ بِهِ حِطَّةُ خَطِيئَةٍ ". قَالَ خَالِدٌ: " يَعْنِي تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبَهُ ".عیاض بن غطیف بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے تو ان کے پاس ان کی بیوی تھی، ہم نے ان سے پوچھا: انہوں نے رات کیسے گزاری ہے؟ تو انہوں نے کہا: اجر کے ساتھ۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا (میں نے) اجر پاتے ہوئے رات گزاری ہے؟ تو لوگ خاموش ہو گئے، انہوں نے کہا: کیا تم ان سے اس بارے میں نہیں پوچھو گے؟ تو انہوں نے کہا: جو آپ نے کہا ہے اس نے ہمیں تعجب میں نہیں ڈالا مگر ہم آپ سے پوچھتے ہیں، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”جس نے اضافی درہم و دینار اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو وہ سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اور جس نے ایک درہم اپنے اہل پر خرچ کیا یا پھر راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹایا تو یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے، اور روزہ ڈھال ہے جب تک وہ اسے پھاڑتا نہیں ہے، اور جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کی بیماری سے آزمایا اس کے عوض بھی اس کے گناہ مٹائے جائیں گے۔“