السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستشعره من الصبر على جميع ما يصيبه من الأمراض والأوجاع والأحزان لما فيها من الكفارات والدرجات باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6531
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، قَالَ: " أَجَلْ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ " قَالَ: قُلْتُ: لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ، قَالَ: " نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرِضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا "..حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس داخل ہوا اور آپ ﷺ بخار میں تھے، میں نے آپ کے جسم کو ہاتھ لگایا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بہت سخت بخار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، مجھے تمہارے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس وجہ سے کہ آپ کے لیے دو اجر ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جس قدر اس روئے زمین پر مسلمان ہیں، جب انہیں کوئی بیماری یا تکلیف پہنچتی ہے یا اس کے علاوہ کچھ، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کی خطائیں مٹا دیتا ہے جس طرح درخت کے پتے گرتے ہیں۔“