السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما ينبغي لكل مسلم أن يستعمله من قصر الأمل والاستعداد للموت فإن الأمر قريب باب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ وہ امیدوں کو مختصر کرے اور موت کی تیاری کرے کیونکہ یہ معاملہ (موت) قریب ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مُظْلِمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ، أَوْ مَالِهِ؛ فَلْيؤَدِّهَا إِلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يُقْبَلُ فِيهِ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ؛ إِنْ كَانَ لَهُ عَمِلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ، وَأُعْطِيَ صَاحِبُهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ؛ فَحُمِلَتْ عَلَيْهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی کے پاس اس کے بھائی کی ظلم (ناجائز) سے ماری ہوئی عزت یا مال ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کو ادا کر دے اس سے پہلے کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس سے کوئی درہم و دینار قبول نہ کیا جائے؛ اگر اس کے اعمال صالح ہوں گے تو وہ اس سے لے لیے جائیں گے اور اس کے ساتھی کو دیے جائیں گے، اور اگر اس کے پاس اعمال صالحہ نہیں ہوں گے تو اس کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن ابی ذئب سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے اور اس میں یہ لفظ بیان کیے ہیں کہ ”اسے چاہیے کہ آج ہی ادا کر دے اس سے قبل جب اس کے پاس کوئی درہم و دینار نہیں ہوگا۔“