السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما جاء في سب الدهر باب: زمانے کو برا بھلا کہنے کے بارے میں جو مروی ہے
حدیث نمبر: 6494
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا سُفْيَانُ ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِنَّ الدَّهْرَ هُوَ الَّذِي يُهْلِكُنَا، هُوَ الَّذِي يُمِيتُنَا وَيُحْيِينَا، فَرَدَّ اللهُ عَلَيْهِمْ قَوْلَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: مجھے ابن آدم اذیت دیتا ہے کہ وہ زمانے کو گالی دیتا ہے اور میں ہی زمانہ ہوں؛ کیونکہ میں ہی دن رات کو پھیرتا ہوں اور جب میں چاہتا ہوں تو انہیں قبض کرلیتا ہوں۔“ سفیان نے پھر اس آیت کی تلاوت کی: ﴿وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ﴾ [سورة الجاثية: 24] ترجمہ: ”اور انہوں نے کہا: نہیں ہے ہماری یہ دنیا کی زندگی مگر ہم مریں گے اور زندہ ہوں گے، اور نہیں ہمیں ہلاک کرتا مگر زمانہ ہی۔“