❮
❯
حدیث نمبر: 6483
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا مِنْ عَامٍ بِأَقَلَّ مَطَرًا مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللهَ تَعَالَى يَصْرِفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا} [الفرقان: ٥٠] ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کوئی سال کسی دوسرے سال سے کم بارش والا نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے جہاں چاہتا ہے پھیر دیتا ہے، پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا﴾ [سورة الفرقان: 50] (البتہ انھیں ہم پھیرتے ہیں ان کے درمیان تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہوئے انکار کرتے ہیں)۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6483