السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: كثرة المطر وقلته باب: بارش کی کثرت اور اس کی قلت کا بیان
حدیث نمبر: 6481
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَكْتُومٍ، ثنا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا عَامٌ بِأَمْطَرَ مِنْ عَامٍ، وَلَا هَبَّتْ جَنُوبٌ إِلَّا سَالَ وَادِي كَذَا " رُوِيَ مَرْفُوعًا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی سال کسی دوسرے سال سے زیادہ بارش والا نہیں ہوتا، اور جب بھی جنوب کی ہوائیں چلتی ہیں تو فلاں وادی بہہ پڑتی ہے۔“
یہ روایت اس سند کے ساتھ مرفوع بیان کی گئی ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔