السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما كان يقول عند هبوب الريح وينهى عن سبها باب: ہوا چلنے کے وقت آپ ﷺ جو دعا پڑھتے تھے اور اسے برا بھلا کہنے سے منع فرمانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ كَثِيرٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَحَدِ بَنِي زُرَيْقٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: " أَخَذْتِ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَاجٌّ فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِمَنْ حَوْلَهُ: " مَا الرِّيحُ؟ " فَلَمْ يُرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا، فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي إِلَيْهِ حَتَّى أَدْرَكْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ؟ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَلَا تَسُبُّوهَا، وَاسْأَلُوا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِاللهِ مِنْ شَرِّهَا ".ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں کو آندھی نے آلیا اور وہ مکہ کے راستے میں تھے اور عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے جا رہے تھے اور آندھی بہت سخت ہوگئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا: ”کیسی ہوا ہے؟“ تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور مجھے یہ خبر پہنچی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سوال کیا ہے تو میں اپنی سواری ان کے قریب لایا اور میں نے ان کو پالیا تو میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے «الرِّيحِ» کے بارے میں دریافت کیا ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: «الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللهِ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلَا تَسُبُّوهَا، وَاسْأَلُوا اللهَ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا» ”ہوا اللہ تعالیٰ کی (طرف سے) ہے جو رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، سو تم اسے برا بھلا نہ کہو۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے پناہ طلب کرو۔“