السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: كراهية الاستمطار بالأنواء باب: ستاروں کی گردش سے بارش طلب کرنے کی کراہت کا بیان
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ مَوْلَى جُهَيْنَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُبَيِّتُ الْقَوْمَ بِالنِّعْمَةِ، ثُمَّ يصْبِحُونَ وَأَكْثَرُهُمْ بِهَا كَافِرٌ يَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ". ⦗٥٠١⦘ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ سَلْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ سَعِيدٌ: نَحْنُ قَدْ سَمِعْنَا ذَاكَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”قوم کو کوئی نعمت رات کے وقت ملتی ہے، پھر وہ صبح اس حال میں کرتے ہیں کہ اکثر ان میں سے اس کا انکار کرنے والے ہوتے ہیں اور وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں قسم کی وجہ سے بارش دیے گئے ہیں۔“
سعید کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی اور انہوں نے مجھ سے ایسی حدیث بیان کی جس (کے راوی) پر میں تہمت نہیں لگا سکتا۔ بیشک وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صلاۃ الاستسقاء میں شامل ہوئے اور وہ قحط سالی میں لوگوں کے لیے بارش مانگ رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے بارش کے لیے دیر تک دعا و التجا کی اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عباس! ”ثریا“ کی فلاں قسم کتنی باقی ہے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! اہل علم خیال کرتے ہیں، سات دن کے بعد وہ افق کے کناروں سے ہٹ جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی وہ سات دن ہی گزرنے پائے تھے کہ لوگوں کو بارش دے دی گئی۔