السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: كراهية الاستمطار بالأنواء باب: ستاروں کی گردش سے بارش طلب کرنے کی کراہت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ: أَرَى مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٥٠٠⦘ وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّ مَنْ قَالَ: " مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ " فَذَلِكَ إِيمَانٌ بِاللهِ؛ لِأَنَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُمْطِرُ وَلَا يُعْطِي إِلَّا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا عَلَى مَا كَانَ بَعْضُ أَهْلِ الشِّرْكِ يَعْنُونَ مِنْ إِضَافَةِ الْمَطَرِ إِلَى أَنَّهُ أَمْطَرَهُ نَوْءُ كَذَا، فَذَلِكَ كُفْرٌ " كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ النَّوْءَ وَقْتٌ، وَالْوَقْتُ مَخْلُوقٌ، لَا يَمْلِكُ لِنَفْسِهِ وَلَا لِغَيْرِهِ شَيْئًا، وَلَا يُمْطِرُ، وَلَا يَصْنَعُ شَيْئًا؛ فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا عَلَى مَعْنَى مُطِرْنَا فِي وَقْتِ نَوْءِ كَذَا، فَإِنَّمَا ذَلِكَ كَقَوْلِهِ: مُطِرْنَا فِي شَهْرِ كَذَا، فَلَا يَكُونُ هَذَا كُفْرٌ، وَغَيْرُهُ مِنَ الْكَلَامِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، أُحِبُّ أَنْ يَقُولَ: مُطِرْنَا فِي وَقْتِ كَذَا. قَالَ: " وَبَلَغَنِي أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَصْبَحَ وَقَدْ مُطِرَ النَّاسُ قَالَ: " مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْفَتْحِ "، ثُمَّ يَقْرَأُ {مَا يفْتَحُ اللهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا} [فاطر: ٢] ".زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے متعلق امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال آپ ﷺ کے فرمان کے بارے میں، واللہ اعلم، یہ ہے کہ جس نے کہا کہ ”ہم اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے بارش دیے گئے ہیں“، یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے کہ اس کے سوا نہ کوئی بارش دے سکتا ہے نہ ہی کچھ اور۔ جس نے یہ کہا کہ ہم فلاں قسم (ستارے) کی وجہ سے بارش دیے گئے ہیں، جو اہل شرک کا نظریہ تھا کہ فلاں ستارے نے بارش برسائی ہے اور فلاں وجہ سے بارش آئی ہے، یہ کفر ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا؛ کیونکہ «النَّوءُ» ”وقت“ ہے اور وقت مخلوق ہے جو نہ اپنے لیے کچھ اختیار رکھتا ہے اور نہ دوسرے کے لیے، نہ وہ بارش برسا سکتا ہے اور نہ کچھ اور کرسکتا ہے اور جس نے کہا کہ ہم فلاں نوء سے بارش دیے گئے ہیں یعنی فلاں نوء کے وقت میں بارش دیے گئے ہیں، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہم فلاں ماہ میں بارش دیے گئے ہیں۔ یہ کہنا کفر نہیں ہوتا، البتہ اس کے علاوہ کوئی دوسری بات کہنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے اور مجھے پسند ہے کہ یہ بات ایسے کہی جائے کہ ”ہم فلاں وقت میں بارش دیے گئے ہیں“۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم جب صبح کرتے اور لوگوں کو بارش دی گئی ہوتی تو کہتے: ”ہم فتح کے نوء سے بارش دیے گئے ہیں“، پھر یہ آیت پڑھتے ﴿مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا﴾ [سورة فاطر: 2]۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے جمعہ کے دن منبر پر فرمایا کہ «الثُّرَيَّا» (ثریا) کی قسم کتنی باقی ہے؟ تو عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ «العَوَاءُ» (عواء) کے بغیر کچھ باقی نہیں ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور دیگر لوگوں نے بھی دعا کی، یہاں تک کہ وہ منبر سے اترے تو بارش برسنا شروع ہوگئی اور اس سے لوگ زندگی دیے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ کا قول اسے واضح کرتا ہے جو میں نے بیان کیا؛ کیونکہ ان کی مراد یہ تھی کہ ثریا کا کتنا وقت باقی ہے۔ یہ بات اس علم کی بنا پر کہی جو وہ جانتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے ان اوقات میں بارش کو مقدر کیا ہے جس طرح تجربے سے یہ بات جانی گئی ہے کہ فلاں وقت کو اللہ تعالیٰ نے سردی اور گرمی کے لیے مقدر کیا ہے؛ اور وہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات بھی پہنچی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بنو تمیم کے ایک بوڑھے پر ناراض ہوگئے جب وہ عکاظ کے بازار میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا اور لوگ بارش دیے گئے تھے۔ اس نے کہا: ”آج صبح پچھتر (ستاروں) نے سیراب کردیا ہے“، مگر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بات کا انکار کردیا، پچھتر کو بارش کی طرف منسوب کیے جانے کی وجہ سے یہ بات کہی۔