السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ما قيل من المعنى في تحويل الرداء باب: چادر الٹنے کی حکمت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے
حدیث نمبر: 6420
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٤٩٠⦘ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ وَكِيعٌ فِي قَوْلِهِ: " جَعَلَ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ وَالشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ "، يَعْنِي: تَحَوَّلُ السَّنَةِ الْجَدْبَةِ إِلَى الْخِصْبِ، كَمَا تَحَوَّلُ هَذَا الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ ".حافظ ثناء اللہ
اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں کہ وکیع نے اپنی بات میں یہ بیان کیا کہ آپ ﷺ نے چادر کی دائیں جانب کو بائیں کیا اور بائیں جانب کو دائیں پر ڈال لیا، یعنی خشک سالی کو ہریالی میں بدل دے جس طرح چادر کو دائیں جانب سے بائیں جانب کیا ہے۔