السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: ذكر الأخبار التي تدل على أنه دعا أو خطب قبل الصلاة باب: ان احادیث کا تذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے نماز سے پہلے دعا کی یا خطبہ دیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو غَسَّانَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: " خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ يَسْتَسْقِي، وَقَدْ كَانَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ فِيمَنْ خَرَجَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ: فَقَامَ قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ عَلَى غَيْرِ مِنْبَرٍ، فَاسْتَسْقَى وَاسْتَغْفَرَ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، وَنَحْنُ خَلْفَهُ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ، لَمْ يُؤَذِّنْ يَوْمَئِذٍ، وَلَمْ يُقِمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: فَخَطَبَ ثُمَّ صَلَّى. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَسْقَى، وَرِوَايَةُ الثَّوْرِيِّ وَزُهَيْرٍ أَشْبَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.ابو اسحاق سے روایت ہے کہ عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تھا۔ ان کے ساتھ جو لوگ نکلے ان میں براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما بھی تھے اور اسحاق کہتے ہیں کہ اس دن میں بھی ان کے ساتھ تھا تو وہ بغیر منبر کے اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہوئے۔ پھر انہوں نے بارش کی دعا کی اور توبہ و استغفار کیا، پھر ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور ہم ان کے پیچھے تھے وہ ان میں بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے تو نہ تو انہوں نے اذان کہی اور نہ ہی اقامت۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو اپنی صحیح میں ابو نعیم سے بیان کیا ہے اور ثوری نے جو ابو اسحاق سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں: انہوں نے خطبہ دیا، پھر نماز پڑھائی اور جو شعبہ نے بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ دو رکعات پڑھائیں، پھر دعا۔