السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الدليل على أن السنة في صلاة الاستسقاء السنة في صلاة العيدين، وأنه يصليها ركعتين كما يصلي في العيدين بلا أذان ولا إقامة في وقت صلاة العيد باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
حدیث نمبر: 6407
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي: أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ: خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اسْتَسْقَى، فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ، قُلْتُ: كَمْ غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " ⦗٤٨٦⦘ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً "، قُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا؟ قَالَ: ذَاتُ الْعُسَيْرَةِ أَوْ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ ".حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بیشک عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ بارش کی دعا کے لیے نکلے، سو انہوں نے دو رکعتیں پڑھائیں، پھر بارش کی دعا کی اور اس دن میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے ملا، میرے اور ان کے درمیان کوئی آدمی نہیں تھا یا انہوں نے کہا کہ میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی تھا۔ میں نے کہا: آپ ﷺ نے کتنے غزوات کیے؟ تو انہوں نے کہا: انیس غزوات۔ پھر میں نے کہا: آپ نے آپ ﷺ کے ساتھ کتنے غزوات کیے؟ تو انہوں نے کہا: سترہ۔ پھر میں نے کہا: پہلا غزوہ کون سا ہے جو آپ ﷺ نے لڑا؟ انہوں نے کہا: «ذَاتُ الْعَسِيرَةِ» یا پھر «ذَاتُ الْعُشَيْرَةِ» کہا۔