السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الدليل على أن السنة في صلاة الاستسقاء السنة في صلاة العيدين، وأنه يصليها ركعتين كما يصلي في العيدين بلا أذان ولا إقامة في وقت صلاة العيد باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
حدیث نمبر: 6399
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَاسْتَسْقَى، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ". زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: " وَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى ".حافظ ثناء اللہ
عباد بن تمیم اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول مکرم ﷺ لوگوں کے ساتھ پانی طلب کرنے کے لیے نکلے، سو آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں بلند آواز میں قرات کی اور اپنی چادر کو پلٹایا اور پانی مانگا اور قبلے کی طرف منہ کیا، اس کے علاوہ نے اضافہ کیا ہے اور وہ عبد الرزاق سے بیان کرتے ہیں کہ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے پانی طلب کیا۔