السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: استحباب الصيام للاستسقاء لما يرجى من دعاء الصائم باب: استسقاء کے لیے روزہ رکھنے کے مستحب ہونے کا بیان کیونکہ روزے دار کی دعا (قبول ہونے) کی امید ہوتی ہے
حدیث نمبر: 6393
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ ⦗٤٨٢⦘ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ: " وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین ایسے اشخاص ہیں جن کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا: ۱۔ عادل حکمران، ۲۔ روزے دار جب تک افطار نہ کر دے اور ۳۔ مظلوم کی دعا بادلوں کے اوپر اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ”مجھے میری عزت کی قسم! میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی۔““