السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: ما يستدل به على جواز اجتماع الخسوف والعيد لجواز وقوع الخسوف في العاشر من الشهر باب: اس دلیل کا بیان جس سے گرہن اور عید کے جمع ہونے کا جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ مہینے کی دسویں تاریخ کو گرہن کا واقع ہونا جائز ہے
حدیث نمبر: 6352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، أنبأ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: " لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَسَفَتِ الشَّمْسُ كَسْفَةً بَدَتِ الْكَوَاكِبُ نِصْفَ النَّهَارِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا هِيَ ".حافظ ثناء اللہ
ابو قبیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو سورج گرہن ہوا، ستارے دوپہر کے وقت چمک رہے تھے اور ہم نے گمان کر لیا کہ یہ قیامت کا دن ہے۔