السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: من صلى في الخسوف ركعتين باب: جس نے گرہن کی نماز (عام نماز کی طرح) دو رکعت پڑھی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا رَيْحَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ. بِمَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ. قَالَ: حَتَّى بَدَتِ النُّجُومُ. ⦗٤٦٥⦘ فَأَلْفَاظُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا رَاجِعَةٌ إِلَى الْإِخْبَارِ عَنْ صَلَاتِهِ يَوْمَ تُوُفِّيَ ابْنُهُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَقَدْ أَثْبَتَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحُفَّاظِ عَدَدَ رُكُوعِهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ مِنْ رِوَايَةِ مَنْ لَمْ يُثْبِتْهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ احْتِجَاجَ مَنِ احْتَجَّ بِحَدِيثِ أَبِي بَكَرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكُسُوفِ رَكْعَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ ". وَحَدِيثُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فِي مَعْنَاهُ، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَحَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ثُمَّ رَجَّحَ أَحَادِيثَنَا بِأَنَّ الْجَائِيَّ بِالزِّيَادَةِ أَوْلَى أَنْ يُقْبَلَ قَوْلُهُ، لِأَنَّهُ أَثْبَتُ مَا لَمْ يَثْبُتِ الَّذِي نَقَصَ الْحَدِيثَ، وَبِأَنَّ إِسْنَادَنَا فِي حَدِيثِنَا مِنْ أَثْبَتِ إِسْنَادِ النَّاسِ. أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ عَنِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.(الف) قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ موسیٰ بن اسماعیل کی حدیث کے ہم معنی بیان فرماتے ہیں کہ سورج گرہن لگا یہاں تک کہ ستارے ظاہر ہو گئے۔ یہ تمام احادیث کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں جو نبی ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن نماز پڑھائی تھی۔ حفاظ کے اصحاب کی ایک جماعت نے ہر رکعت میں آپ ﷺ کے رکوع کی تعداد ثابت کی ہے، لہٰذا ان کی روایت اس شخص کی روایت سے زیادہ قبول کیے جانے کے لائق ہے جس نے اسے ثابت نہیں کیا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے ان لوگوں کے استدلال کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے دلیل لی کہ نبی ﷺ نے نمازِ کسوف دو رکعت ”تمہاری نماز کی طرح“ پڑھائی، اور حدیثِ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے جو اسی معنی میں ہے، اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے۔ پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے ہماری احادیث کو ترجیح دی، کیونکہ زیادتی بیان کرنے والے کی بات قبول کیے جانے کے زیادہ لائق ہے، اس لیے کہ اس نے وہ چیز ثابت کی ہے جو حدیث کو کم بیان کرنے والے نے ثابت نہیں کی، اور اس لیے کہ ہماری حدیث کی سند لوگوں کی سب سے زیادہ ثابت سندوں میں سے ہے۔