حدیث نمبر: 6335
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ، فَلَمَّا انْجَلَتْ قَالَ: " إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ ". هَذَا مُرْسَلٌ، أَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ رَجُلٍ عَنِ النُّعْمَانِ وَلَيْسَ فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةُ الْأَخِيرَةُ.
حافظ ثناء اللہ

نعمان بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا تو آپ ﷺ گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو کھینچتے ہوئے مسجد آئے۔ آپ ﷺ نماز میں مشغول رہے، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا، جب سورج روشن ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کا یہ گمان ہے کہ سورج اور چاند کسی بڑے کی موت کی وجہ سے بے نور ہوتے ہیں، حالانکہ اس طرح نہیں بلکہ سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں سے جب کسی چیز کو روشن فرماتے ہیں تو وہ اس کے لیے خشوع و خضوع اختیار کرتی ہے، جب تم ان کو دیکھو تو فرض نماز کی طرح نماز پڑھو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6335
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابو داؤد 1193»