حدیث نمبر: 6324
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: فَقَالَ يَعْنِي بَعْضَ مَنْ كَانَ يُنَاظِرُهُ: رَوَى بَعْضُكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ". قُلْتُ لَهُ: هُوَ مِنْ وَجْهٍ مُنْقَطِعٌ وَنَحْنُ لَا نُثْبِتُ الْمُنْقَطِعَ عَلَى الِانْفِرَادِ وَوَجْهٌ نَرَاهُ وَاللهُ أَعْلَمُ غَلَطًا، قَالَ: وَهَلْ يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ صَلَاةُ ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، قُلْنَا: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ بعض لوگ ان سے مناظرہ کرتے ہیں کہ بعض نے روایت کیا کہ ”نبی ﷺ نے ہر رکعت میں تین رکوع کیے۔“ میں نے کہا: یہ حدیث منقطع ہے اور منقطع حدیث ہمارے نزدیک انفراد کے طریق سے ثابت نہیں ہوتی۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ فرماتے ہیں کہ کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کوئی ایسی روایت منقول ہے کہ انہوں نے ایک رکعت میں تین رکوع کیے ہوں؟ ہم نے کہا: ہاں۔ سلیمان احوال بیان کرتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سنا کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہوا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ فرماتے ہیں کہ زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ سند زیادہ ثابت ہے سلیمان احوال عن طاؤس عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سند سے۔ اسی طرح صفوان بن عبداللہ بن صفوان فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے زمزم کے نزدیک نمازِ کسوف ادا کی تو ہر رکعت میں دو دو رکوع کیے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کبھی بھی نبی ﷺ کی نمازِ خسوف کے خلاف نماز نہ پڑھاتے۔ تینوں روایات کو ہی قبول کیا جائے گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے زلزلے کے وقت ہر رکعت میں تین رکوع کے ساتھ نماز پڑھائی۔
(ج) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک نمازِ کسوف چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھنا زیادہ صحیح ہے، یعنی ہر رکعت میں دو رکوع کرنا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6324
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ كتاب العم 7/261»