السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الوضوء من مس الذكر باب: شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 631
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي سَفَرِهِ فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ هَذِهِ صَلَاةٌ مَا كُنْتَ تُصَلِّيهَا، فَقَالَ أَبِي: " بَعْدَ أَنْ تَوَضَّأْتُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ مَسَسْتُ ذَكَرِي ثُمَّ نَسِيتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ عُدْتُ لِصَلَاتِي ".حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں نے آپ کو سورج طلوع ہونے کے بعد دیکھا، آپ نے وضو کیا، پھر نماز پڑھی۔ میں نے پوچھا: یہ آپ نے کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے صبح کی نماز کے بعد وضو کیا، پھر میں نے اپنی شرم گاہ کو چھوا اور میں بھول گیا، اب پھر میں نے وضو کیا اور اپنی نماز دوبارہ لوٹائی۔