السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: : كيف يصلى في الخسوف باب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ إِمْلَاءً. فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، قَالَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللهَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَأُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ مِنْهَا، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " بِكُفْرِهِنَّ "، قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللهِ، قَالَ: " يَكْفُرْنَ ⦗٤٤٩⦘ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، وَفِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ " وَكَذَلِكَ فِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّافِعِيُّ قَوْلَهُ: " أَفْظَعَ مِنْهَا "، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ.(الف) عطاء بن یسار، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہو گیا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا، تقریباً سورہ بقرہ کی تلاوت کے برابر۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا، لیکن پہلے قیام سے ذرا کم۔ پھر لمبا رکوع کیا، لیکن پہلے رکوع سے ذرا کم۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا، لیکن وہ پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، لیکن پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، لیکن وہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سجدہ کیا۔ پھر نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر زیادہ کیا کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عرض کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس جگہ کچھ پکڑ رہے تھے، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ الٹے پاؤں واپس آ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جنت دکھائی گئی۔ میں نے ایک انگور کا گچھا پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس کو کھاتے رہتے اور مجھے جہنم بھی دکھائی گئی۔ میں نے آج تک اتنا گھبراہٹ والا منظر نہیں دیکھا تھا۔ میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی ناشکری کی وجہ سے۔“ پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ خاوندوں کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہیں۔ اگر آپ ان پر زمانہ بھر احسان کرتے رہو، پھر اگر آپ سے تھوڑی سی کوتاہی ہو گئی تو اسی وقت کہہ دیتی ہیں کہ میں نے آپ سے کبھی بھلائی پائی ہی نہیں۔“
(ب) شافعی رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ سورج بے نور ہو گیا تو نبی ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن انہوں نے «أَفْظَعَ مِنْهَا» ”اس سے زیادہ ہولناک“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔